327

پشاور میں‌سکھ برادری کے اہم رہنما سردار چرن جیت سنگھ کا قتل، آئی جی پشاور نے ایک ہفتے میں‌رپورٹ‌طلب کر لی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں منگل کی سہ پہر سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک اہم رہنما کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ 42 سالہ سردار چرن جیت سنگھ کو اس وقت نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا جب وہ کوہاٹ روڈ پر بڈھ بیر کے علاقے میں واقع سکیم چوک میں اپنی دکان میں موجود تھے۔ موٹرسائیکل سوار حملہ آور واردات کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔

فائرنگ کے نتیجے میں‌سردار چرن جت سنگھ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے.
سردار چرن جیت سنگھ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کاوشوں میں سرفہرست تھے۔ انہوں نے پچھلے کئی سالوں سے مذہبی رواداری اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جاری کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔سردار چرن جیت سنگھ کے آبا و اجداد کا تعلق قبائلی علاقے تیراہ سے تھا مگر لگ بھگ دو دھائی سال قبل وہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے درجنوں خاندانوں کے ہمراہ پشاور منتقل ہوئے ہیں۔پچھلے کئی برسوں سے پشاور اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس صلاح الدین محسود نے سکھ کمیونٹی کے رہنما چرنجیت سنگھ کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او پشاور کو چرنجیت سنگھ کے قاتلوں کو ترجیحی بنیادوں پر گرفتار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ہفتے میں واقعے کی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

واقعے کا مقدمہ انقلاب پولیس اسٹیشن میں درج کرلیا گیا، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے سوگواران میں دو بیٹے، ایک بیٹی اور بیوہ کو چھوڑا ہے۔متروکہ وقف املاک بورڈ آف پاکستان نے چرنجیت سنگھ کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کا جسد خاکی قومی پرچم میں اٹک لے جایا جائے گا۔

واضح رہے اپریل 2016 میں وزیر اعلی کے مشیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار سورن سنگھ کو ضلع بونیر میں ان کے گھر ہی میں مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا اور گزشتہ 5 سالوں کے دوران چرنجیت سنگھ سمیت 10 سکھوں کو خیبرپختونخواہ میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں