745

چائنہ میں جموں کشمیر و گلگت بلتستان سکالرز ایسوسی ایشن کا قیام، مقصد دنیا بھر میں کشمیری ٹیلنٹ کو اکھٹا کرنا ہے

بیجنگ (ذرائع)تعلیمی میدان میں کشمیریوں کی کارگردگی ہمیشہ قابل فخر رہی ہے ۔ مثال کے طور پر شرح خواندگی کے لحاظ سے پورے جنوبی ایشیا میں خطہ کشمیر سب سے آگے ہے لیکن حیران کن طور پر کشمیری طلبہ میں اعلی تعلیم کا رحجان خوفناک حد تک کم ہے ۔ زیادہ تر طالب علم میٹرک اور ایف ایس سی کے بعد تعلیم کو خیر باد کہ دیتے ہیں ۔

خوش قسمتی سے چائنہ میں اسوقت 200 سے زیادہ کشمیری طلبہ اعلی تعلیم کے لئے موجود ہیں ۔

4 نومبر کو بیجنگ میں کشمیری طلبہ کا ایک نمائندہ اجلاس منعقد ہوا جس میں اس پہلو پر غورو فکر کیا گیا۔

شرکا نے اس سلسلے میں کشمیر کے تینوں خطوں میں طلبہ کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلیم اور اپنے اپنے شعبہ میں نمایاں مقام کا حصول کشمیریوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے میں بہترین طور پر معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں مندرجہ زیل اہم امور پر اتفاق کیا گیا۔

1۔ خطہ کشمیر کے اکثر مقامات پسماندہ ہیں جہاں بنیادی انسانی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ ہمارےاعلی تعلیم یافتہ اور ذہین نوجوان بہترین زندگی اور مواقع کی تلاش میں اکثر باہر نکل جاتے ہیں ۔ چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل یا جائے جہاں دنیا بھر میں موجود کشمیر کے با صلاحیت ، ذہین اور اعلی تعلیم یافتہ ان نوجوانوں کو اکٹھا کیا جائے اور ان کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کا کچھ حصہ کشمیر میں موجود اپنے لوگوں کی حالت بہتر بنانے میں بھی صرف کریں ۔ اسی ضرورت کے تحت جموں کشمیر اور گلگت بلتستان سکالرز ایسوسی ایشن کا قیام فوری عمل میں لایا گیا جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں موجود کشمیر کے ٹیلنٹ کو اکٹھا کرنا ٹھہرا ۔

2۔ ایسے با صلاحیت اور زہین نوجوان جو مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ان کے لئے ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے سکالرشپس کے اجرا کا فیصلہ کیا گیا۔

3۔ کیرئیر کونسلنگ ویسے تو پورے ملک کا مسئلہ ہے لیکن کشمیر میں زیر تعلیم طلبہ کی کونسلنگ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ طلبہ کی تعلیم کے ابتدائی مراحل پر ہی باقاعدہ کونسلنگ کی جائے تا کہ ہمارے نونہال شروع سے ہی اپنے ذہن میں ایک مقصد رکھ کر تعلیم حاصل کریں اور انہیں اپنی منزل کا پہلے دن سے پتہ ہو ۔ ایسوسی ایشن اس سلسلے میں پورے کشمیر میں بساط کی حد تک سکولوں اور کالجوں میں کونسلنگ سیشن منعقد کرے گی ۔

4۔ دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی طرف سے ہر سال با صلاحیت اور زہین طلبہ کو مختلف سکالرشپس جاری کی جاتی ہیں ۔ کشمیر میں اس طرح کی معلومات تک عام طالب علم کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔ ایسوسی ایشن اس سلسلے میں کشمیر کی یونیورسٹیوں میں معلوماتی سیشن منعقد کرنے کا اہتمام کرے گی اور ساتھ ساتھ اپلائی کرنے میں طلبہ کی بھر پور رہنمائی کی جائے گی تاکہ وہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کر کے اپنی اور قوم کی بہترین خدمت کر سکیں ۔

ایسوسی ایشن کی ابتدائی تنظیم سازی کی گئی جس میں اعلی تعلیم اور صلاحیتوں کے لوگ شامل ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں