331

لاہور کے شہری نے گھر میں ہی چڑیا گھر بنالیا

لاہور میں ایک شہری نے گھر میں ہی چڑیا گھر قائم کرلیا جس میں شیر، چیتے، ہرن، زیبرہ اور دیگر جانور موجود ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق جانوروں اور پرندوں سے محبت رکھنے والے لاہور کے رہائشی جاوید مظفر بٹ نے اپنے گھر میں ہی نایاب نسل کے شیر، ٹائیگر اور جانور پال رکھے ہیں، اس سے وہ نہ صرف اپنے شوق کی تکمیل کررہے ہیں بلکہ اب یہ ان کے لیے ایک منافع بخش کاروباربھی بن چکا ہے۔

جاوید بٹ نے بیدیاں روڈ پر واقع اپنے گھر کو ہی بریڈنگ سینٹر بنا رکھا ہے جہاں ان کے پاس نایاب نسل کے وائٹ ٹائیگر، سائبرین ٹائیگر، افریقن شیر، کامن لیوپرڈ، زیبرے، شترمرغ ، پونی گھوڑے، کئی اقسام کے ہرن ، نیل گائے، مور، فیزنٹ، تیتر، کبوتر، بندر اور کچھوے موجود ہیں۔

کئی جانور اور پرندے تو گھر کے کھلے لان میں اکٹھے ہی شرارتیں اور اچھل کود کرتے نظر آتے ہیں اور گھر کی فضا میں ان کی قسم قسم کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں۔

جاوید مظفربٹ کے مطابق ان کے بچے بیرون ملک مقیم ہیں اس لیے وہ اپنا وقت ان جانوروں اور پرندوں کے ساتھ گزارتے ہیں، انہیں جب بھی کسی نئے جانور اور پرندے کے بارے میں معلومات ملتی ہیں وہ اسے خرید لیتے ہیں، یہاں بنائے گئے پنجروں میں اس وقت 16 ٹائیگر اور شیر ہیں جن میں وائٹ ٹائیگر، سائبرین ٹائیگر، افریقن شیر اور کامن لیوپرڈ قابل ذکر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کچھ شیر اور چیتے ایسے ہیں جنہیں چند ماہ کی عمر میں یہاں لایا گیا اور اب وہ جوان اور صحت مند جانور بن چکے ہیں۔ شیر خطرناک جانور ہے لیکن وہ اپنے مالک سے اس قدر مانوس ہیں کہ ان کی آواز سن کر اور اپنے قریب پا کر ان کے قریب آجاتے اور پاؤں چاٹنے لگتے ہیں لیکن اجنبی قریب جانے کی کوشش کرے تو شیر کی دھاڑ اسے قریب نہیں آنے دیتی۔

جاوید بٹ نے کہا کہ شروع میں ان کے پاس چند جانور تھے لیکن رفتہ رفتہ تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ شاید کسی سرکاری چڑیا گھر میں اتنے جانور اور پرندے موجود نہیں ہوں گے، ان میں سے کئی اقسام ایسی ہیں جو خاصی نایاب اور مہنگی ہیں، یہاں ہرنوں کی 6 اقسام ہیں جبکہ فیزنٹ اور مور بھی رونقیں بکھیرتے نظرآتے ہیں۔

شہری کا کہنا تھا کہ جانوروں کو پالنا اب ان کا شوق اور کسی حد تک ان کے لیے ایک منافع بخش کاروبار بھی ہے کیونکہ یہ جانور اور پرندے خاصے مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ مختلف پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز، فارم ہاؤس اور چڑیا گھروں کے لیے ان سے جانور اور پرندے خریدے جاتے ہیں، ان کے پاس جو جانور اور پرندے سرپلس ہوتے ہیں وہ فروخت کردیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان جانورو ں اور پرندوں کی دیکھ بھال کے لیے کئی ملازم رکھے ہوئے ہیں جب کہ ایک وٹرنری ڈاکٹر بھی ہے، ان جانوروں اور پرندوں کو کس موسم میں کون سی غذا دینی ہے اس کی مقدار کیا ہونی چاہیے یہ سب وٹرنری ڈاکٹر طے کرتا ہے۔

ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ موسم کی مناسبت سے ان جانوروں اور پرندوں کے پنجروں میں درجہ حرارت کا انتظام کیا جاتا ہے، شیر اور ٹائیگر خطرناک جانور ہیں گو کہ یہ جانور جن سے مانوس ہوتے ہیں ان کے ساتھ زیادہ غصے کا اظہارنہیں کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ لوگ احتیاط کرتے ہیں کیونکہ یہ جانور کسی بھی وقت غصے میں آکر حملہ آور ہوسکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آپ کبھی بھی چڑیا گھر میں ان جانوروں کے پنجروں کے بہت زیادہ قریب مت جائیں اور انہیں چھونے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ جانوروں اور پرندوں کی گھروں اور بریڈنگ سینٹرز میں افزائش کے لیے محکمہ تحفظ جنگلی حیات سے لائسنس لینا ہوتا ہے جو آسانی سے مل جاتا ہے، پنجاب میں اس وقت درجنوں بریڈنگ سینٹرز ہیں جو نایاب نسل کے جانوروں اور پرندوں کی افزائش بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں