2,510

کل رات سے سوشل میڈیا پہ گردش کرتی دھیرکوٹ واقعہ کی ویڈیو کی تفصیلات سامنےآگئیں

مظفرآباد( ٹیم ینگ جرنلسٹس فورم) کل رات سے سوشل میڈیا پر گاؤں “تمروٹہ” دھیر کوٹ ضلع باغ کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے۔
واقعہ کی ویڈیو بناتے وقت جس زبان کا استعمال کیا گیا ہے وہ کسی صورت بھی سوشل میڈیا پر شئیر نہیں کی جا سکتی ۔
اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ینگ جرنلسٹس فورم کی ٹیم نے جب اس پر تحقیقات کیں تو متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او “ضیا” کے مطابق تاحال کسی نے اس واقعہ کی اطلاع تھانے میں نہیں دی۔
دوسری طرف “وائی جے ایف “ کی نشاندہی پر وزیر اعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر باغ کو فوری کاروائی کی ہدایات جاری کیں۔
ڈپٹی کمشنر باغ “سردار وحید خان” کے مطابق انھوں نے متعلقہ تھانے کو فوری کارروائی کا حکم دیتے ہوئے واقعہ میں ملوث ملزمان کو چوبیس گھنٹوں میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کے اندر کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کسی نے شکایت نہیں کی تو ریاست خود قانون کے مطابق مقدمہ درج کر کے کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔
دوسری جانب وائی جے ایف کی تحقیقات کے مطابق ویڈیو میں جس شخص پر تشدد کیا جا رہا ہے وہ شیخ برادری سے تعلق رکھتا ہے ۔اور اس پر غیر اخلاقی حرکات میں ملوث ہونے کا الزام تھا ۔ اور اس واقعہ کے بعد فریقین میں راضی نامہ بھی ہو چکا ہے۔ لیکن گزشتہ روز ویڈیو وائرل ہو جانے کے بعد ریاست بھر سے یہ سوال اُٹھنے شروع ہو گئے کہ اس طرح کسی کو جنگل میں لیجا کر خود ساختہ ریمانڈ کاٹنے سے ریاست کی رٹ کہاں رہ جاتی ہے۔
تاہم جب متعلقہ اداروں تک معاملہ پہنچا تو انھوں نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں