294

’تمہارا حق میں دوں گا، میرا حق کون دے گا عورت مارچ کے جواب میں کراچی میں مردوں کا ’مرد مارچ‘، مردوں نے بھی اپنے حقوق مانگ لیے

کراچی(ویب ڈیسک ) ’کھانا گرم کر لوں گا، پکا تو دو‘، ’ مرضی میری بھی ضروری ہے‘، ’لیڈیز فرسٹ آ گیا، جینٹس فرسٹ کب آئے گا‘عورت مارچ کے بعد مردوں نے بھی اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا دی. کراچی میں مردوں نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا کر عورت مارچ کے جواب میں اپنے پیغامات کے خلاف مرد مارچ کے لیے مہم چلاناشروع کر دی ہے جس میں وہ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں. عورت مارچ میں عورتوں نے مردوں کے خلاف نعرہ بازی کی تھی اور پلے کارڈز پر مردوں کے خلاف بیانات لکھے ہوئے تھے اس کے جواب میں مردوں نے مہم شروع کر دی ہے کہ انکے بھی حقوق ہیں اور انہیں بھی آزادی اتنی ہی درکار ہے جتنی عورتوں کو. مردوں نے پلے کارڈز پر پیغامات لکھ کر اس مہم کا آغٓز کر دیا ہے، انہوں نے پلے کارڈز پر لکھ رکھا تھا ’کریڈٹ کارڈ اپنا بنواؤ‘، ’ موزے میں ڈونڈ لوں گا دوپٹہ ڈھونڈ لو‘ وغیرہ. عورتوں نے پلے کارڈز اٹھائے تھے کہ ہم ’ماں، بہن ،بیٹی ہیں‘ اس لیے ہماری عزت ہونی چاہیے جس پر مردوں نے پلے کارڈز پر لکھ رکھا تھا کہ ’ہم بھائی، باپ اور بیٹے ہیں‘ اسکے علاوہ عورتوں کے ایک نعرے کے جواب میں مردوں نے پیغام دیا کہ ’اپنابھی وٹس ایپ چیک کرواؤ‘. معاشرے میں عورتوں پر ظلم وستم ہوتا آیا ہے اور اب عورتوں نے اپنے حق میں آواز اٹھانا شروع کر دی ہے لیکن انکی اس آواز میں مردوں کی تزہیک شامل ہونے سے مردوں کو بھی اپنے حقوق کے لیے میدان میں آنا پڑگیا ہے اسی لیے کراچی کے مردوں نے مرد مارچ مہم کا آغاز کر دیا ہے. مردوں کا کہنا ہے کہ ’گالی صرف ہم نہیں دیتے‘ اور ’ ہمیں بھی پک اینڈ ڈراپ دو‘.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں