162

ہٹیاں بالا خاتون زیادتی کیس پولیس نے نامزد تین ملزمان کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر لیا جبکہ چوتھے ملزم نے عدالت سے عبوری ضمانت کروا لی

چناری(نامہ نگار)وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے آبائی ضلع جہلم ویلی ،ہٹیاں بالا کے نواحی گاﺅں دھنی شاہدرہ کے شادی شدہ درندہ صفت نوجوان نے پیار کا جھانسہ دےکر بائیس سالہ لڑکی سے شادی کر کے اسے چار ماہ تک پیسوں کی لالچ میں اپنے کزنوں سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنواتا رہا جنسی ہوس پوری نہ کرنے پر لڑکی پر ظالمانہ تشدد موقعہ ملتے ہی لڑکی ظالم نوجوان کے گھر سے فرار ہو کر سٹی تھانہ ہٹیاں بالا پہنچ گئی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لینے کے بعد پولیس کی ڈوریں لگ گئیں رات گئے دس دفعات کے تحت مقدمہ درج تین نامزد ملزمان گرفتار مقدمہ میں ملوث ایک ملزم نے عبوری ضمانت کروالی ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے آبائی ضلع جہلم ویلی کے نواحی علاقے باٹ بنی کی رہائشی مسماة(ح)دختر محمد اسلم نے صحافیوں کو بتایا کہ دھنی شاہدرہ کے پہلے سے شادی شدہ رہائشی آفتاب مذمل لوہار ولد مذمل لوہار نے اسے اپنے پیار میں پھنسا کرپانچ جنوری 2019ءکے روز نکاح کیا اور27جنوری کے روز اپنے ذاتی گھر دھنی شاہدرہ لے گیا 27جنوری سے لیکر آج تک آفتاب نے مھجے اپنی بیوی سمجھنے کے بجائے رکھیل بنائے رکھا اپنی پہلی بیوی مسماة ل کے ساتھ ملکر مھجے اپنے دو کزنوں سے جنسی بد فعلی کا نشانہ بنواتا اور اسکے عوض پیسے لیتا رہا اس کے دو کزنوں محمد راشد ولد سخی اور محمد رفاقت ولد منور دین کی جنسی ہوس پوری نہ کرنے پر میرا خاوند،اسکی پہلی بیوی لبنی اور دو کزنوں نے مھجے چار ماہ سے رسیوں کے ساتھ باندھ کر حبس بے جا میں رکھنے کے علاوہ آہنی راڈوں اور ڈنڈوں سے مارتے رہے اور میرے جسم کا کوئی حصہ باقی نہیں جس پر زخموں کے نشان نہ ہوں گذشتہ صبح بڑی مشکل سے بھاگ کر سٹی تھانہ ہٹیاں بالا پہنچی ہوں مجھ سے بڑی غلطی ہوئی جو میں نے ایسے شخص سے پیار کیا آج میں اس پر شرمندہ ہوں پیار ایک دھوکہ اپنی اور والدین کی بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں ہے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور آئی جی مھجے انصاف دلوائیں میرےساتھ بہت زیادتی کی گئی ہے اگر مھجے انصاف نہ ملا تو میں خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاﺅں گی زیادتی کا شکار ہونی والی بائیس سالہ مسماة(ح)نے تھانہ پولیس ہٹیاں بالا میں باقائدہ درخواست دے دی واقعہ سوشل میڈیاپر وائرل ہوا تو وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ہد ا یت کی تو سٹی تھانہ ہٹیاں بالاحرکت میں آگئی پہلے مرحلے میں نوجوان لڑکی کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا سے میڈیکل کروایا گیا جس میں ڈاکٹروں نے تشدد کی تصدیق کر دی ہٹیاں بالا کے نواحی گاؤں دھنی شاہدرہ زیادتی کیس کا مقدمہ زیر دفعات 10,13,16,19ZA,353A,337,342,419,420,34PCدرج ہوا ملوث تین ملزمان راشد ولدسخی ،آفتاب ولد مزمل اور لبنی بی بی کو گرفتار کرکے سٹی تھانہ کی حوالات میں منتقل کردیا گیا چوتھے نامزد ملزم محمد رفاقت نے پیر کے روز عبوری ضمانت کروا لی عوامی حلقوں نے وزیراعظم کے نوٹس کو سراہاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم ایسے گھناؤنے فعل میں ملوث ملزمان کو نشان عبرت بنانے کے احکامات دیں تانکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی گھناونی حرکت سے باز رہے جامع مسجد المصطفی ہٹیاں بالاکے خطیب پروفیسر مولانا محمد الطاف صدیقی نے واقعہ پر افسوص کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو سخت سے سخت سزائیں دے کر نشان عبرت بناتے ہوئے علاقہ سے جرائم کے خاتمہ کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کرے والدین اپنی بچیوں پر کڑی نظر رکھیں اور بچیوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی پیار کے نام پر عزتیں خراب کرنے کے بجائے دین اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں گذاریں تب ہی جاکر دنیا و آخرت میں کامیابی مل سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں